
اپنے باہری ہیٹرز کو ضائع نہ کریں۔
زیادہ تر باہری ہیٹرز دراصل ایک بار استعمال کے بعد پھینک دئے جاتے ہیں۔ یہ بند ڈبوں کی شکل میں ہوتے ہیں، لیکن پانچ سال تک بارش اور نم دار ہوا کی وجہ سے ان کے اندر موجود حرارت پیدا کرنے والے عناصر خراب ہو جاتے ہیں۔ پھر کیا کیا جائے؟ پورا آلہ صرف کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ بات بےکار لگی۔ اس لئے ہم نے مختلف طریقہ اختیار کیا۔
“پلگ-اینڈ-پلے” طریقہ
ہم نے ہیٹنگ ٹیوبوں کو جوڑنے کے لئے ماڈیولر سسٹم استعمال کیا۔ اس طریقہ میں معیاری کنکٹرز استعمال کئے گئے۔ اگر کوئی لیمپ خراب ہو جائے، تو پورے واٹرپروف ہولڈنگ کو توڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس ماڈیول کو نکال کر نیا ماڈیول لگا دیا جاتا ہے۔ اس طرح چار گھنٹے لگنے والی مرمت کا کام صرف دس منٹ میں ہی مکمل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، چونکہ بنیادی الیکٹریکل سسٹم میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی، اس لئے واٹرپروف سیلز بھی برقرار رہتے ہیں۔
چند معمولی قربانیاں
شارٹ ویو انفراریڈ ہیٹرز بہت بہترین ہیں، کیونکہ ان سے فوری طور پر حرارت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ان سے بہت زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے۔ ایسی حرارت سستے کنکٹرز کو خراب کر سکتی ہے، اس لئے ہم نے اعلی درجہ حرارت کے سیرامکس کا استعمال کیا۔ اس طرح ٹیوبیں آلے کے اندر گہرائی میں رہتی ہیں، تاکہ کسی چیز کی وجہ سے شیشہ ٹوٹ نہ جائے۔ بےشک، اس سے حرارت کی تقسیم تھوڑی کم ہو جاتی ہے، لیکن یہ ایک مناسب قیمت ہے، کیونکہ اس طرح ہیٹر باہری ماحول میں بھی کام کرتا رہتا ہے۔
کام کو آسان بنانا
اگر آپ کسی پارک یا عوامی مقام پر ایسے ہیٹرز استعمال کر رہے ہیں، تو یہ طریقہ بہت مفید ہے۔ آپ کو مہنگے ہیٹرز کو گودام میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس چند اضافی ماڈیولز رکھیں۔ جب کوئی ماڈیول خراب ہو جائے، تو تکنیشن فوراً اسے تبدیل کر دیتا ہے۔ کوئی سولڈرنگ کی ضرورت نہیں، نہ ہی تاروں کو دوبارہ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ صرف ایک سادہ مکینیکل مرمت کافی ہے۔ عام طور پر، پانچ سال بعد فلامنٹ خراب ہو جاتا ہے۔ لیکن اس سسٹم میں یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ آپ کے مہمانوں کو گرمی ملتی رہتی ہے، اور آپ کو الیکٹریکل سسٹم کی مرمت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔